92

بے وفا دوست تحریر۔ داود شاہد

اماں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بات کرنی ہے آپ سے ۔ احمد ماں کے سامنے سرجھکائےاحترام سے کھڑا تھا ان سے مخاطب ہوا ۔ چوہدرانی زینب نے اس کی طرف دیکھا احمد کی سیاہ گھنگھریالی زلفیں سرخ و سپید چہرے کو حصار میں لئے ہوئے تھیں مظبوط جسامت دراز قد اس کی مردانہ وجاہت کو چار چاند لگا رہی تھیں ۔
آؤ بیٹھو ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے کوئی پریشانی ہے بیٹا۔ زینب نے اس کو ہاتھ کو پکڑ کر اپنے سامنے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا ۔

اماں میں بہت الجھا ہوا ہوں ۔ ایک طرف آپ نے شادی کی تاریخ رکھ دی ہے اور دوسری طرف میری ٹریننگ شروع ہونے والی ہے ۔ ٹریننگ چھوڑ کر شادی نہیں کرسکتا احمد نے سیدھا مدعا بیان کر دیا ۔
اپنے باپ کی طرح ہی ہے زینب نے مسکراتے ہوئے سوچا بغیر لگی لپٹی تمام بات بیان کردی نہ کوئی بہانہ بازی نہ فریب و مکر ۔

اچھا ۔ ۔ ۔ یعنی شادی تمہاری ٹریننگ نہیں ہونے دے گی چلو میں اسماء کے والدین سے بات کرتی ہوں لیکن سوچ لو جو انہوں نے فیصلہ کیا وہ تمہیں قبول کرنا پڑے گا تمہارے باپ کا علاقے میں نام عزت سے لیا جاتا ہے دیکھنا مجھے شرمندہ نہ ہونا پڑے زینب نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے امی جان جیسا آپ اور اسماء کے والدین بہتر سمجھیں لیکن دورانِ ٹریننگ میں شادی نہیں کرسکتا ۔ احمد اپنی ضد پر قائم تھا ۔

اسماء اس کے مرحوم والد کے دوست کی بیٹی تھی ۔ اگلی صبع اس کی والدہ اسماء کے گھر پہنچیں اور ان سے تمام حالات پر تبادلہ خیال کیا اور ان کا فیصلہ لے کر وہ گھر آگئیں ۔ احمد ان کا منتظر تھا ماں کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔ ماں اسکی بےتابی پر مسکرا دی بیٹھو چوہدرانی زینب نے شال ایک طرف رکھ کر سر پر ہلکا دوپٹہ رکھتے ہوئے کہا ۔
احمد بیٹا اسماء کے والدین اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری ٹریننگ میں شادی مخل نہ ہو ابھی تمہاری چھٹی 25 دن بقایا ہے اس لئے پرسوں تمہارا اور اسماء کا نکاح ہے اور اگلے دن ولیمہ احمد جو خبر کہ ابتدائی حصے پر دل میں خوش ہو رہا تھا اسے ہزار واٹ کا جھٹکا لگا ۔
لیکن ۔ ۔ ۔ اماں اس طرح اچانک ۔ ۔ ۔ لوگ کیا کہیں گے ۔ ۔ ۔ اور میں تو کسی کو بلا بھی نہیں پاؤں گا ۔ یہ آپ نے اچھا نہیں کیا احمد ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر روہانسہ ہو رہا تھا ۔

احمد ۔ ۔ ۔ میرے بیٹے ۔ ۔ ۔ تمہیں کیا معلوم ایک ماں اتنے برس اپنے بیٹے کے جوان ہونے کا انتظار کرتی ہے تاکہ وہ اس کے سر پر سہرے سجائے اور دیکھو حامد بھائی بھی اب بیمار رہتے ہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے دوست کو دیا ہوا وعدہ پورا کریں اسلئے اب تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی اس فیصلے کے خلاف نہیں آئے گا ۔

نکاح کی تقریب انتہائی سادگی سے ہوئی دلہن کو جب حویلی لایا گیا تو گو کہ رشتے دار ناراض تھے اچانک شادی پر لیکن پھر بھی خوب جشن منایا گیا ۔ احمد کے دوستوں نے اس کی اطلاع کے بغیر حویلی کو برقی قمقموں سے سجا دیا تھا آتشبازی اور ڈھول کا بھر استعمال کیا گیا ۔ احمد کو جھٹکا تب لگا جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا ہر طرف گلاب ہی گلاب نظر آ رہے تھے ۔ عجلہ عروسی کی لڑیوں پر ایک کارڈ آویزاں تھا ۔ احمد نے کارڈ کھولا

ایک نہایت ہی بے وفا اور خود غرض دوست کو شادی مبارک جس کو دعوت دینے کی بھی توفیق نہ ہوئی ۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی مخلص دوستوں کا پیار بھرا پیغام اس کو سرشار کر گیا ۔ بیڈ کے وسط میں بیٹھی اسماء اسکی منتظر تھی ۔

ولیمے کی تقریب کو علاقے میں اپنی شان و شوکت کے حساب سے ترتیب دیا گیا تھا قریبی دوستوں نے اس پر خوب فقرے کسے محبت بھری مکے بازی بھی ہوئی ۔ اسماء اس کے والد کا اانتخاب تھا اور بچپن کی منگنی نے محبت کی آتش دونوں طرف جلا رکھی تھی وصل کا موسم آیا تو 20 دن چھٹی کب ختم ہوئی احساس نہ ہوا اسماء کو اسوقت پتا چلا جب ایک صبع احمد اپنا سامان باندھ رہا تھا ۔ احمد۔ ۔ ۔ ۔ جلدی لوٹنا ۔ ۔ ۔ فرطِ جذبات میں وہ بس اتنا کہہ سکی احمد نے ایک نظر بیوی کی طرف دیکھا گہرا سانس لیا اور سامان اٹھا کر کمرے سے نکل گیا ۔ والدہ کی قدم بوسی کی اور رخصت کی اجازت مانگی چوہدرانی زینب نے ہاتھوں کے ہالے میں چہرہ لے ماتھے کو چوم کر کامرانی کی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا ۔

احمد کی 4 سالہ سروس کے بعد آج اس کو سپیشل سروسز گروپ میں کمانڈو کورس کےلئے بھیجا گیا تھا کورس کی کٹھن مشقیں اس کی مسکراہٹ کو لرزا نہ سکیں سخت ورزشی جسم اب فولاد بن رہا تھا تکمیل سے چند دن قبل اسے اطلاع ملی کہ عنقریب وہ باپ بننے والا ہے خوشی سے اس کے پاؤں فرش پر نہیں لگ رہے تھے ۔ کورس ختم ہونے کے بعد جب وہ تین دن کی رخصت پر گھر آیا تو اسماء کی خوشی دیدنی تھی ۔ چوہدرانی بیٹے کی کامیابی پر خیرات تقسیم کر رہی تھیں ۔ دو دن کے بعد رخصت ہونے سے ایک رات پہلے ماں کی خدمت میں حاضر ہوا اماں ۔ ۔ ۔ کچھ بات کرنی تھی ۔ ۔ ۔ بہت ضروری۔ ۔ ۔ بولو بیٹا زینب اس کی بدلی ہوئی کیفیت پر کچھ حیران تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اماں میں نے وہ راستہ چنا ہے جس پر شہادت میری منتظر ہے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے ایک لمحہ کو زینب کا دل ڈوب گیا جوان بیٹا داغ مفارقت کی بات کر رہا تھا پھر اس کے شوہر کا چہرہ اس کی نگاہوں میں گھوم گیا ۔ ۔ ۔ بیٹا ﷲ تمہاری ہر دلی مراد پوری کرے ۔ ۔ ۔ ایک بات یاد رکھنا تاریخ بزدلوں کو کبءی معاف نہیں کرتی ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیں ﷲ کی آمان میں دیا احمد خوشی سے ماں سے لپٹ گیا۔ ۔ ۔ یونٹ میں واپس پہنچا تو کچھ دن بعد اس کو حکم ملا کہ دہشتگردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے ۔ خون کی گردش تیز ہوگئی آنکھوں کی چمک میں غیر معمولی اضافہ کمانڈنگ آفیسر دیکھ چکا تھا ۔ عقاب شکار کو جھپٹنے کو تیار ہو چکا تھا ۔ حساس اداروں نے رپورٹ دی تھی کہ وزیرستان کے ایک باڈر سے منسلک ایریا میں دہشتگردوں کا اجتماع ہو رہا ہے ان کو قابو کرنے کا سنہری موقع ہے ۔ احمد 11 جوانوں کے ساتھ نصف شب کو پیراشوٹ کے زریعے علاقے میں اترا اپنا تمام تر سراغ ختم کرنے کے بعد پیش قدمی شروع کردی دشمن کے قریب پہنچ کر اس نے ایک ٹکڑی کو پہاڑی درے پر تعینات کیا اور ان کو حکم دیا جب تک میں سگنل نہ دوں کوئی حرکت نہ کرنا ۔ دشمن کے قریب پہنچ کر چاقو کی مدد سے تین پہرے داروں کو جہنم واصل کردیا چوتھے نے مرنے سے قبل اپنی رائفل سے فائر کھول دیا ایک گولی اسکی ران چیرتی ہوئی نکل گئی ۔ دشمن ہوشیار ہوگیا ہر طرف سے گولیاں اسکی سمت چلنے لگیں آڑ میں ہونے کے باوجود تین مزید گولیاں اسکو زخمی کر گئیں تھیں دشمن کی ساری توجہ اب اس کی سمت تھی دوسری پارٹی دشمن کے عقب پر موجود اسلحہ خانوں پر دھاوا بول چکی تھی دھماکوں سے پورا علاقہ لرز رہا تھا دشمن درے کی جانب بھاگنا شروع ہوا تو اس نے ایس او ایس کال دی غیر متوقع اچانک حملے سے وہ سنبھل نہ پائے اور بہت سی نفری جہنم واصل ہوگئی احمد نے اونچی جگہ کھڑے ہوکر ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا ایک دہشت گرد کی کلاشن کوف سے نکلی گولیاں اس کے سینے میں اتریں اور وہ پلٹ کر پیچھے گرا سپاہی راشد نے اس کو سہارا دیا پانی پلانا چاہا تو اس نے منع کردیا سنو راشد ۔ ۔ ۔ ۔ میری ماں سے کہنا احمد نے پیٹھ نہیں دکھائی دلیروں کی طرح لڑا کلمہ شہادت اس کی لبوں پر تھا روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔ وائرلس پر کمانڈنٹ کو جب مشن کی کامیابی کی اطلاع دی گئی تو کماڈنٹ نے احمد کی شہادت کی خبر پر الحمدﷲ کہا اور رسیور رکھ دیا نصف گھنٹہ قبل اسے اطلاع ملی تھی کہ احمد کو ﷲ نے بیٹے سے نوازا باپ خوشخبری سنے بغیر خود خوشخبری بن گیا ۔ احمد کے جسد خاکی کو جب یونٹ لایا گیت تو ہر شخص کی آنکھ نم تھی ۔ شہید کے جسدِ خاکی کو جب ہیلی کاپٹر میں رکھ کر آبائی علاقے روانہ کرنے کا وقت آیا تو راشد نے کماڈنٹ سے درخواست کی کہ اسے ہمراہ جانے کی اجازت دی جائے اس کے پاس شہید کا پیغام ہے شہید کی والدہ کےلئے ۔ اجازت دے دی گئی ۔ کماڈنٹ نے ہیلی روانہ کرنے کے بعد دفتر کا رخ کیا مظبوط ترین اعصاب کےمالک کماڈنٹ کی آنکھ نم تھی ۔ زینب بہن ایک خوشخبری آپ کےلئے کماڈنٹ کی آواز میں گھلا کرب زینب کو وسوسوں میں ڈال رہا تھا فون پر دونوں طرف سکوت تھا ۔

احمد نے اپنی مراد پالی ۔ ۔ ۔ ۔ شہادت کے درجے پر فائز ہو چکا ہے مبارک ہو آپ کو ۔ ۔ ۔ ۔
شکریہ بھائی ﷲ کا شکر ہے اس نے میرے بیٹے کی حسرت پوری کی چوہدرانی زینب کے الفاظ بجلی بن کر کمانڈنٹ آفیسر پر گرے وہ سوچ رہا تھا آج پہلی درس گاہ پھر جیت گئی جب تک زینب جیسی مائیں سلامت ہیں اس ملک کے دشمن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گاؤں کی سوگوار فضاء میں اعلان گونج رہے تھے تمام اہل علاقہ کو دعوت دی جا رہی تھی شہید کی والدہ نے تمام علاقے کوبلا کر شہید کے شایان شان استقبال کی گزارش کی ۔ہاتھ استقبال میں مصروف اور آنکھیں شہید کے پاکیزہ وجود کی زیارت کرنے کےلئے وضو کر رہی تھیں ہیلی کاپٹر اترا عوام کے جمِ غفیر نےاسقبال کیا ۔ ہر ایک کاندھا دینے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ شہید کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد جب شہید کا سامان اور وردی زنیب کے ہاتھوں میں دی گئی تو سسکیوں کا ایک طوفان برپا ہوگیا ۔ پرچم کو چوم کر راشد نے شہید کی والدہ کے سپرد کیا اور ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش ہونے کا کہا شہید کا پیغام سنا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ میری ماں سے کہنا احمد نے پیٹھ نہیں دکھائی دلیروں کی طرح لڑا ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں گواہ ہوں آخری الفاظ جو ادا ہوئے وہ کلمہ شہادت تھے ۔

سسکیاں پھر بڑھنے لگیں ادھر احمد کی تربت پر ایک کارڈ پڑا تھا

ایک بےوفا اور خود غرض دوست کے نام جس نے شہادت میں بھی دوستوں سے دغا کیا

کہانی کے تمام کردار اصلی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں