109

”میں“ نہیں ”ہم“ کا لفظ ”ٹیم ورک“ بڑھاتا ہے

”شعور نیوز ہم نے بنایا ہے“، یہ وہ فقرہ ہے جو شاید میں ہر روز اپنے ٹیم ممبرز سے تین سے چار مرتبہ ضرور کہتا ہوں تاکہ ٹیم میں یہ یقین پیدا ہو کہ ہمارا مستقبل ایک ہے ہماری منزل ایک ہے، جدا جدا راستوں پر شاید ہمیں وہ مقبولیت نہ مل سکے جس کی تلاش میں ہم نے اس سفر کا آغاز کیا، آج سحری سے قبل میں قاسم علی شاہ کا بیان سن رہا تھا جس میں وہ خطاب کررہے تھے کہ ہماری ایک تھپکی ہمارے ٹیم ممبرز کو ایسے اعتماد سے بھر سکتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اپنی ذمہ داری پر قربان کرنے کے لئیے تیار ہوجاتے ہیں، میں آج مینجمنٹ ہاؤس کے سربراہ اعجاز نثار اور قاسم علی شاہ کی ایک ساتھ ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کراس قدر خوش ہوا کہ جسے میں بیان نہیں کرسکتا اور وجہ اسکی یہ ہے کہ ہمیں اکثر ایسی صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے جہاں ٹیم میں اعتماد کی کمی کے باعث مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میرا ایک ہی موقف ہوتا ہے کہ علیحدگی اور الگ بزنس کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ہم خودمختار رہتے ہوئے اور اپنی لیڈرشپس کو برقرار رکھتے ہوئے بھی مل کر برینڈ بن سکتے ہیں، جن کی منزلیں بڑی ہوتی ہیں جن کے ٹارگٹ عظیم ہوتے ہیں وہ بڑی ٹیم بنا کر اور ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھتے ہیں اور ”شعور نیوز“ ہمارے عزم کا نشان ہے یہ ہم سب کا ہے، یہ ہم سب نے مل کر بنایا ہے، یہ ہماری پہچان ہے اور ہمارا یقین ہے کہ یہ کسی ایک فرد نہیں یہ پوری ٹیم کا اثاثہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں