33

امپوریم مال کے باہر

بڑا عرصہ ہوا ہمارے گھر روزنامہ خبریں آیا کرتا تھا میرے والد محترم جو کہ الحمداللہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں جناب ضیاء شاہد سے بہت متاثر تھے اور اس زمانے میں ضیاء شاہد کا قلم جس معیار پر تھا اس کا ہم آج بھی اندازہ نہیں لگا سکتے، تب ایک بار چھوٹی عید پر انکا ایک فیچر غریب بچوں کی عید کے حوالے سے چھپا تھا اور مجھے پہلی بار یہ پتہ لگا کہ ماڈل ٹاؤن میں غیب غرباء بھی آباد ہیں کہ جن کے نہ روزے اچھے گزرتے ہیں نہ عید خوبصورت ہوتی ہے یہ زندگی ہے جہاں ہر پل ایک نیا چیلنج ایک نئی امید کے ساتھ کھڑا ہمارا منتظر ہوتا ہے اور یہ عیدیں یہ شبراتیں غریبوں کے لئیے کسی چئلنج سے کم نہیں ہوتیں میں یہ باتیں بھول سا گیا تھا لیکن جب میں اس بار چھوٹی عید پر امپوریم مال گیا تو مجھے یہ سب یاد آگیا اور وجہ کیا بنی؟ وجہ بنی امپوریم کے باہر کھڑی ریڑھیاں جن پر انواع و اقسام کے کھانے پینے کے سٹال لگے تھے اور جہاں لوگ بڑی تعداد میں امپوریم کی سیر کرنے کے بعد کھانا کھا رہے تھے عجیب حسن ہے زندگی کا سیر فائیو سٹار کی اور کھانا ریڑھی پر کچھ یہی حال ہماری حکومت کا بھی ہے وہ حکمران غریبوں کے ہیں اور رہتے جی او آرز میں ہیں منتخب انھیں کچی آبادی والوں نے کیا ہے لیکن رہتے وہ منسٹرز بلاک میں ہیں بات عوام کی کرتے ہیں گھومتے پھرتے لینڈ کروزر میں ہیں اور جب اتنا تضاد ہو رہن سہن اور سوچ بچار میں تو ملک نے ترقی کہاں سے کرنی ہے، عوام کو جدید کاروباری طریقوں سے ہمکنار کون کروائے گا، جب معاشرتی تقسیم اتنی بڑھ جائے گی تو تبدیلی امپوریم مال والی آئے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں