4

سپریم کورٹ نے منرل واٹر اورمشروبات بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت دوہفتوں کیلئے ملتوی

اسلام آباد ۔ (شعورنیوز ) سپریم کورٹ نے منرل واٹر اورمشروبات بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت دوہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پانی استعمال کرنے والی تمام صنعتیں پانی پر ٹیکس ادا کریں۔ جمعہ کوجسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پرعدالت نے کہاکہ گزشتہ سماعت پرعدالت نے زیرزمین پانی کے استعمال سے متعلق قانون سازی کرنے کی ہدایت کی تھی، آئندہ سماعت پر عدالت کو زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق قانون سازی کا مسودہ پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ نے کہاکہ زیرزمین پانی کے استعمال کے حوالے سے اب تک سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبے یعنی پنجاب،خیبرپختونخوا اور بلوچستان اپنی اپنی تجاویزعدالت میں جمع کرا چکے ہیں۔
سندھ نے ابھی تک پروپوزل جمع نہیں کرایا۔ جبکہ وفاق کی جانب سے صرف نوٹیفیکیشن جمع کرایا گیا ہے۔

جسٹس عمرعطابندیال نے ہدایت کی کہ تمام صوبے ایک دوسرے کے ساتھ قانونی مسودے شیئر کرتے ہوئے صوبائی اوروفاقی مسودوں کی روشنی میں یکساں قانون سازی کریں،سماعت کے دوران فاضل جج نے لاہور کی مساجد میں لگائے گئے پانی کے پلانٹس کے بلیو پرنٹس طلب کر تے ہوئے ہدایت کی کہ عدالت نے صوبوں اوروفاقی سے استعمال ہونے والے پانی کے ساتھ ضائع ہونے والے پانی کی مقدار جاننے کے سلسلے میں بھی تعاون طلب کیاتھا ۔
بتایاجائے کہ اس حوالے سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں، جس پرایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کوآگاہ کیاکہ ہم نے اب تک پانی کی مقدار جاننے کیلئے 42 میٹر لگا دیئے ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسارکیاکہ کیا تمام صوبوں نے زیراستعمال پانی کے بارے میں قانون سازی کر لی ہے کیونکہ پنجاب کی رپورٹ میں صرف ایک بل لگایا گیا ہے،بتایاجائے کہ قانونی مسودہ کہاں ہے، عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ ایک اکائونٹ میں سارے پیسے جائیں گے، جو استعمال نہیں ہوں گے۔
ہمیں بتایاجائے کہ اس نوٹیفیکیشن میں یہ سب کچھ کہاں لکھا گیا، صوبے قانون کاجوبھی مسودہ پیش کریں وہ بلوچستان کے قانونی مسودہ سے مطابقت رکھتا ہو۔ عدالت نے یکسانیت کیلئے قانونی مسودوں کو آپس میں شیئر کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے استفسارپر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایاکہ بجٹ سیشن مکمل ہونے کے بعد کابینہ قاٰنٰونی مسودے کی منظوری دے گی، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ بل کے مسودے میں سروس سٹیشن، فائیو سٹار ہوٹلز میں ایک روپے فی لیٹر ٹیکس لگانے کی تجویز بھی شامل ہے، جس پربنچ کے سربراہ نے ہدایت کی کہ سندھ کے علاوہ تین صوبوں نے مجوزہ ڈرافٹ جمع کرادیئے ہیں۔
عدالت نے کمیٹی پانی کی بچت کرنے کیلئے بنائی ہے کسی کو سزا دینے کیلئے نہیں، اس لئے پانی استعمال کرنے والی تمام صنعتیں ٹیکس ادا کریں۔ بعدازاں مزید سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

نیوز ایڈیٹر میاں مزمل منیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں