38

سابق وزیر خزانہ پاکستان تحریک انصاف کے راہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر اعتراضات اٹھا دیئے

اسلام آباد(شعور نیوز )سابق وزیر خزانہ پاکستان تحریک انصاف کے راہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر اعتراضات اٹھا دیئے ہیں . قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی، خوردنی تیل اور گھی پر عائد ٹیکس واپس لینا چاہئے، ایسے اقدامات نہ کئے جائیں جن سے ایکسپورٹرز کا اعتماد ٹوٹ جائے، اگر ان کا اعتماد ٹوٹ گیا تو بحال ہونے میں دو سے ڈھائی سال لگ جائیں گے‘اسد عمر نے کہا کہ نون لیگ والے معیشت کی مہلک بیماری چھوڑ کر گئے، معیشت میں کئی مسائل ہیں جو برسوں سے چلے آرہے ہیں، پکڑ دھکڑ سیاسی ہو تو اچھا نہیں.
انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایکشن لے لیا ہے، اگر پکڑ دھکڑ سیاسی انتقام کے لیے ہو رہی ہے تو ملک کے لیے اچھی نہیں‘اسد عمر نے کہا کہ سزا اور جزا کا نظام اللہ کا ہے، ناچیز بندوں کا اس سے تعلق نہیں، جمہوریت قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، سلیم مانڈوی والا جب وزارتِ خزانہ چھوڑ کر گئے تو ایک سال کا ڈھائی ارب ڈالر خسارہ تھا.
انہوں نے کہا کہ کم وقت میں فوری طور پر طلب کم کی جاسکتی ہے، حکومتی کوششوں سے چند ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 70 فیصد کمی آئی ہے، برآمدات بڑھانے تک بین الاقوامی طاقتوں پر انحصار ختم نہیں ہو گا.اسد عمر نے کہا کہ نئی سرمایہ کاری لانے والوں کو 5سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ دینا چاہیے، فوری طور پر جی آئی ڈی سی ختم کر کے یوریا کی بوری پر 400 روپے ختم کرائیں‘انہوں نے کہا کہ چینی پر ٹیکس بڑھایا گیا اس پر ورکنگ کرنی چاہیے وزیر ریلوے شیخ رشید نے چینی کی قیمت بڑھانے پر ضرور بات کی ہو گی مگر چینی پر ٹیکس مناسب نہیں، اسے واپس لینا چاہیے اس کے ساتھ خوردنی تیل اور گھی پر عائد ٹیکس بھی واپس لینا چاہیے.
انہوں نے یہ بھی کہا کہ محنت کشوں کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، بجٹ میں پنشن 10 سے 15 فیصد اور بڑھائی جائے، محنت کشوں کی ای اوبی آئی میں رجسٹریشن کرائی جائے، گھریلو ملازمین کی اور بھٹہ مزدوروں کی بھی رجسٹریشن کرائی جانی چاہیے. اسد عمر نے آصف زرداری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ منہ نہ کھلواﺅ مجھے پتہ ہے کیا چوری کی ہے، اگر جرم ہوا، کسی نے قوم کی دولت لوٹی تو اس کے لئے سزاکا نظام بنانا آئینی حق ہے.
بجٹ تجاویز پر بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ متوسط طبقے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں چھوٹی گاڑیوں پر ایف ای ڈی بڑھا دی گئی ہے اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھائیں گے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دارومدارکو ختم نہیں کیا جاسکتا، نئی سرمایہ کاری لانے والوں کو 5 سال کے لیے ٹیکس سے استثنا دینا چاہیے، نئی سرمایہ کاری جب تک نہیں لگے گی اس وقت تک اس دلدل سے نہیں نکلیں گے، جن کی اربوں کی جائیدادیں ہیں انہیں کس بات کی فکر ہے.
سابق وزیر خزانہ نے کہا آیندہ سے ہر سال 50ہزار گھر مزدوروں کے لیے بنائے جائیں ، بھٹہ مزدوروں کی بھی رجسٹریشن کرائی جانی چاہیے، فیصلے صرف ارب پتی اسٹاک بروکرزکے لیے نہیں لیے جاتے‘اسد عمر نے کہا بجلی کی قیمت میں35فیصد اضافہ عام آدمی زندگی پرکتنا اثرکرتی ہے ، گیس کی قیمتوں کے معاملے پر بھی عام شہریوں کی مشکلات کو سامنے رکھنا چاہیے. سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک میں انصاف کیلئے جدوجہدکی ہے، ہماری جدوجہدکامعاشی انصاف ایک بڑاحصہ ہے ، نیوکلیئرپاورملک کے لوگ ہیں انشااللہ جلد بہتری آئےگی، ہم عوام،کسان،مزدوروں کیلئے اشرفیہ کیخلاف کھڑے ہیں انشااللہ کامیاب ہوں گے.

نیوز ایڈیٹر میاں مزمل منیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں