26

گذشتہ روز پولیس نے اسلام آباد میں قتل ہونے والیبچی فرشتہ کے قاتل کو گرفتار کیا تھا

اسلام آباد (شعور نیوز) گذشتہ روز پولیس نے اسلام آباد میں قتل ہونے والیبچی فرشتہ کے قاتل کو گرفتار کیا تھا۔۔پولیس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ملزم فرشتہ کا رشتہ دار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اس سے قبل 11 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے۔اور اب فرشتہ قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم نے اہم انکشافات کر دئیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کہ ملزم کوفرشتہ کی والدہ اور بہن کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا۔فرشتہ نے واقعے سے پہلے گھر والوں کو ملزم سے متعلق بتایا تھا کہ وہ راستے میں آتے جاتے کمسن بچی سے چھیڑ خانی کرتا تھا۔ملزم کو پہچاننے اور شور کرنے پر سفاک قاتل نے پتھر مار کر فرشتہ کو قتل کیا۔اسلام آباد پولیس کے 600 سے زائد افسران نے فرشتہ قتل کیس میں حصہ لیا۔
ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ فرشتہ نے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ میں اس کو تنگ کرتا ہوں۔جس کے بعد ایک دن میں اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اسے ایک جگہ لے گیا اور ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ملزم کا کہنا ہے کہ وہ اس کام میں تو کامیاب نہ ہوسکا تاہم بعد ازاں اس نے فرشتہ کو قتل کردیا۔

جو کہ خون بہنے کی وجہ سے دم توڑ گئی۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کیس پر کروڑوں روپے اخراجات آئے۔واضح ہودس سالہ بچی فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع مہمند سے ہے،پولیس کے مطابق 15 مئی کوچک شہزاد سے لاپتہ بچی کوقتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا، فرشتہ کی نعش کو جنگل سے بر آمد کیا گیا، پوسٹ مارٹم کر لیا گیا.بچی کی لاش مسخ شدہ حالت میں جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔
اسلام آباد میں دس سال کی بچی کے اغواہونے کے بعد پولیس کے رویے نے سب کے سر شرم سے جھکا دئیے تھے ۔ پولیساہلکار متاثرہ خاندان کی رپورٹ درج کرنے کی بجائے ان سے صفائیاں کرواتے رہے اور کہا کہ آپکی بچی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔بعد میں 10 سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔مقدمہ ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن اوردیگر اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا۔
درخواست کے متن میں کہا گیا تھا کہ بچی کو ڈھونڈنے اور مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے کے کئی چکر لگائے۔ ایس ایچ او نے ڈھونڈنے کی بجائے کہا کہ آپکی بچی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔پولیس اہلکار درخواست گزار سے تھانے کی صفائیاں کرواتے رہے۔ مقدمے میں درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او کے خلاف محکمہ کاروائی کی جائے۔ اس واقعے کے بعد تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ کو معطل بھی کر دیا گیاتھا جب کہ ان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی۔

نیوز ایڈیٹر میاں مزمل منیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں