58

اس وقت نیب کی حراست میں موجود سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا

لاہور (شعورنیوز ) اس وقت نیب کی حراست میں موجود سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھاکہ ”نیب گردی“نہیں چلے گی اور اسی قسم کا ایک اور بیان بھی داغا تھا کہ نیب کی کیا مجال کہ ہمیں گرفتار کرے۔تاہم اب وہی آصف زرداری ہیں جو نیب سے متعلق یہ بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ ”میرے ساتھ نیب افسران کا رویہ بہت اچھا ہے“۔احتساب اپنی جگہ ٹھیک ہے اور حکومت کا یہ موقف بھی ٹھیک ہے کہ لوٹی گئی دولت واپس آنی چاہیے مگر بات یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ساری کرپشن پارٹی لیڈرز نے کر رکھی ہے یا کچھ اور لوگ بھی اس کارحرام میں شامل تھے۔
نوا شریف کے بعد آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا۔مگر عمران خان کی بہن علیمہ خان پلی بارگین کر چکی ہیں جس حوالے سے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی پی ٹی آئی جماعت کے لوگ خاصے کم ہیں جن کے خلاف نیب میں ریفرنس موجود ہے۔مگر دوسری طرف اکثر سیاسی جماعتوں کے چیئرمینوں کو ایک ایک کر کے جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب مصطفیٰ کمال کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔قومی احتساب بیورو نے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال سمیت متعددافرادکے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا۔نیب کی جانب سے مصطفیٰ کمال کے خلاف دائر ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ملزم پر ساحل سمندر پر ساڑھے 5 ہزار مربع گز زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔نیب ریفرنس کے مطابق زمین 1980 میں ہاکرز اور دکانداروں کو لیز پر دی گئی تھی جو 2005 میں نجی تعمیراتی کمپنی نے لیز پر حاصل کرلی۔
نیب کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کی غیرقانونی اجازت دی ہے۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں دیگر ملزمان میں ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائم خانی، فضل الرحمان، ممتاز حیدر اور نذیر زرداری شامل ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور حکومت اور اپوزیشن میں سے کون جیتنے میں کامیاب ہوپاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں