59

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دے دی

آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ کے 33ویں میچ میں پاکستان نے اب تک ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ کی جانب سے دیا گیا 238 رنز کا ہدف بابر اعظم اور حارث سہیل کی شاندار بلے بازی کی بدولت آخری اوور میں حاصل کر لیا۔

برمنگھم کے ایجبیسٹن گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں کیوی کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو مارٹن گپٹل اور کولن منرو نے اننگز کا آغاز کیا۔

میچ کے دوسرے اوور کی پہلی ہی گیند پر مارٹن گپٹل محمد عامر کا شکار بن گئے، وہ صرف 5 رنز بناسکے۔

نیوزی لینڈ کا مجموعی اسکور 24 تک پہنچا تو کولن منرو بھی 12 رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر سلپ پر کھڑے حارث سہیل کو کیچ دے بیٹھے۔

شاہین شاہ آفریدی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور مزید دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، روس ٹیلر 3 اور ٹام لیتھم ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

صرف 83 کے مجموعی اسکور پر 5 وکٹیں گنوانے کے بعد نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر جیمز نیشم اور کولن ڈی گرینڈہوم کے درمیان چھٹی وکٹ پر 132 رنز کی شاندار شراکت داری قائم ہوئی۔ دونوں نے ٹیم کا اسکور 215 رنز تک پہنچاکر بیٹنگ لائن کی لاج رکھی۔

اس موقع پر کولن ڈی گرینڈ ہوم 64 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ یوں نیوزی لینڈ نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 237 رنز بنائے۔ نیشم 97 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ محمد عامر اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

فاسٹ بولر وہاب ریاض نے 10 اوورز میں 55 رنز دیے اور کوئی وکٹ نہ لے سکے جب کہ محمد عامر اس میچ میں سب سے زیادہ 67 رنز دینے والے بولر تھے۔ ان کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔

شاہین شاہ آفریدی اپنی شاندار بولنگ کی بدولت مینز کرکٹ ورلڈکپ میں بہترین بولنگ کرنے والے تیسرے ٹین ایجر بن گئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز امام الحق اور فخر زمان نے کیا لیکن پاکستانی اوپنرز ٹیم کو اچھا آغاز فراہم نہ کر سکے اور دونوں کھلاڑی 44 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ محمد حفیظ بھی 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

تین کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد بابراعظم اور حارث سہیل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور اپنی ٹیم کے لیے فتح کی بنیاد رکھی۔

بابراعظم نے ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے پہلی سنچری اسکور کی جب کہ حارث سہیل نے ایک بار پھر شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی۔

بابراعظم سنچری اسکور کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ فوٹو: آئی سی سی
حارث سہیل 49 ویں اوور میں 68 رنز بنا کر مارٹن گپٹل کی شاندار تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ کی جانب سے دیا گیا 238 رنز کا ہدف آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر پورا کیا۔ کپتان سرفراز احمد نے وننگ اسٹروک کھیلا جب کہ بابر اعظم 101 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں کے شکست دی تھی جب کہ پاکستان اپنا پہلا میچ ہارا، دوسرا جیتا اور تیسرا بارش کے باعث منسوخ ہوا تھا۔

92 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کو چوتھے اور پانچویں میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پھر پاکستان نے چھٹا اور ساتواں میچ جیتا تھا۔

پاکستان کے حق میں 1992 ورلڈکپ کی ایک اور مماثلت سامنے آگئی

سیمی فائنل میں پہنچنے کیلئے گرین شرٹس کی جیت ضروری تھی اور اگر کیوی ٹیم میچ جیت جاتی تو وہ سیمی فائنل میں پہنچ جاتی۔

ورلڈکپ کپ کی تاریخ میں نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستان کا پلڑا بھاری ہے، دونوں ٹیمیں اب تک ورلڈکپ میں 9 بار مدمقابل آچکی ہیں جن میں سے پاکستان نے 7 اور نیوزی لینڈ نے صرف دو میچز جیتے ہیں۔

پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان ٹیم نے اب تک 7 میچز کھیلے ہیں جس میں سے 3 میں اسے کامیابی، 3 میں شکست اور ایک میچ بارش کی نذر ہو نے کی وجہ سے 7 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔

کیویز ٹیم نے 7 میچز میں سے 5 میں کامیابی حاصل کی جب کہ اس کا ایک میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا اور ایک میچ میں اسے پاکستان کے ہاتھوں شکست کا مزہ چھکنا پڑا ہے۔

پوائنٹس ٹیبل پر نیوزی لینڈ 11 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر مو جود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں