181

ہو چکا واجب کہ زخم بھی کھایا جائے

ہو چکا واجب کہ زخم بھی کھایا جائے
ہائے خواہش ہمدرد کی، مسکرایا جائے
جس جھوٹ پہ خوش تھے اسی پہ رہو
اب ضد کیسی کہ ہمیں سچ بتایا جائے
گزر گیا وقت اب تقدیر ہی مان لی اپنی
التواء ہے ہمیں بھی اب,ارو نا ستایا جائے
ہائےہم نے کب کہا کہ آپ میرے مجرم ہو
التجا ہے کہ ہم پہ بھی الزام نہ لگایا جائے
ہائےمیری اداسیوں پہ نا کرے کوئی شکوه
عنايت!انکو بھی تقدیر کا حصہ بنایا جائے
کسی سے شکوه شکايت نہیں ہے ہمیں عفی
بس میری خاموشیوں پہ سوال نااٹھایا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں