33

ریحان اور بے حس معاشرہ.. عثمان عبدالقیوم

انسان دانستہ یا نادانستہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر گناہ یا غلطی کر بیٹھتا ہے۔
مگر انسان جب احساس محسوس کرتا ہے کہ اس سے فلاں فلاں غلطی جانے انجانے میں ہو گئی ہے کہ اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ غلطی یا گناہ اللہ رب العزت کی ناراضگی کا سبب بن جائے گی۔ اور اس سے اپنے معبود کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ رب العزت کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے ندامت محسوس کرتا ہے اور آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتے ہوئے توبہ کرتا ہے رب سے معافی مانگتا ہے کہ اے مالک کائنات اے معبود اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔ یہ الفاظ رب کریم کو اس قدر پسند ہیں کہ احادیث مبارکہ میں واضح موجود ہے کہ اللہ رب العزت سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔

دوسری جانب ‏معاشرے میں بڑھتی ہوئ بے حسی ایک لمحہ فکریہ بنتی جارہی ہے۔چند سو یا ہزار روپوں کی خاطر انسانی جان لے لینا ہمارے رویوں میں انتہا درجے کی نیچ ذہنیت اور مردہ ضمیری ظاہر کرتا ہے ہم لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی لالچ اور ہوس کی دلدل میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ ہم جانوروں سے بھی نچلے درجے پر چلے گئے ہیں۔
سانحہ پشاور ہو یا سانحہ ماڈل ٹاؤن یا پھر نھنی فرشتہ رحمتہ اللہ علیہ کے دل سوز سوز واقعہ یا پھر درندگی سے بھرے معصوم زینب و فیضان جیسے کئی سانحے ابھی بھولے نہیں تھے کہ گنجان علاقے کراچی بہادر آباد سے سانحہ ریحان کی اطلاع ملی کہ اہل علاقہ کے ان پڑھ اور پڑھے لکھے جانور نما سوچ کے حامل اہل علاقہ اپنی عدالت میں فیصلہ کرتے ہوئے کہ وہ چوری کی غرض سے ایا تھا کوئی شے اٹھائی نہیں نا نقصان ہوا بس برہنہ کیا چھت پر باندھا اور یوں بدترین تشدد کا شکار ایک اور 15 سالہ ریحان
اوپر سے نیچے تک کچی آبادی سے پکے گھروں تک بے ہنگم غصیلا ہجوم کے سامنے اپیل تو کرتا ہوگا رحم کی التجا تو کرتا ہو گا بے دردی اور ہوس کی وجہ سے دنیا فانی سے رخصت ہو گیا
اس سانحہ نے بھی ضمیر کو رولا کر رکھ دیا ہے۔
‏اس کی شرٹ پر لکھے لفظوں

“اپنا بھی وقت آئے گا”

نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے
ہاں وقت تو اسکا آیا مگر اس حال میں کہ پینٹ اتری ہوئی تھی شرٹ پھٹی اور لاش کٹی پڑی تھی ہاں پتا نہیں یہ اپنی زندگی میں کیا بننا چاہتا تھا لیکن اس معصوم کا ٹائم پہلے آگیا ظالموں نے زندگی چھین لی اس نے بڑا ہونا تھا اپنے والدین کا ساتھ دینا تھا ۔ ہائے ظالموں نے شرٹ پے لکھے لفظ بھی نہیں دیکھے ان الفاظوں کو سمجھا بھی نہیں۔ اسے جان سے مارتے ہوئے ایک لمحہ سوچا کہ وہ 14/15 سال کا بچہ چور کیوں بنا۔؟
کیا ریاست نے ان جیسے تمام بچوں کو نادرا کے دو سو روپے کے کارڈ کے سوا روٹی کپڑا مکان روزگار تحفظ تعلیم فراہم کی۔؟
ہمارے دشمن کچی عمر کے یہ چور بچے نہیں ظالمانہ نظام ہے جہاں ستر سال کے بزرگ کو بھی پیٹ پالنے کے لیے کروڑوں روپے رکھنے والے بینک کی حفاظت کرنا پڑتی ہے اور سات برس کے بچے کو گھر چلانے کے لیے چھوٹا بن کر اپنی عزت نفس پامال کرنا پڑ جاتی ہے
اور چوری کے شک میں مارنے اسی ہجوم میں سے کتنوں نے اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے گناہ کو پاک صاف ثابت کرنے کیلیے نعرے بازی کی ہوگی

ریحان کا چہرہ سامنے آتا ہے تصور میں اس کی پکار رحم کی اپیلیں آتی ہیں تو دل افسردہ اور خون کے آنسو روتا ہے فرض کرتا ہوں
ریحان واقعتا چور تھابھی تو کس نے حق دیا ہے مقامی لوگوں کو کہ خود عدالت لگا کر انصاف کریں کس نے اختیار دیا ہے خود سے تفتیش کریں کس نے اختیار دیا ہے چند گھنٹوں کے ظلم و بربریت کے خود ساختہ جسمانی ریمانڈ کا۔۔۔۔۔
میرے سمیت پوری قوم کے لئے باعث شرمندگی ہے
پھر سوچتا ہوں کیا ہم واقعی مسلمان ہیں کیا ہم واقعی آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں کیونکہ
جس دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اپنا تعلق بیان کرتے ہیں اس دین اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن، محبت کا باقاعدہ درس دیا اور اس کے سامنے ایک مضبوط ضابطہ اخلاق پیش کیا، جس کا نام ہی ”اسلام“ رکھا گیا یعنی امن و سکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔ یہ خصوصیت دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں۔ اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن و سکون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا اور پوری علمی واخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی
رحم، خیرخواہی اور امن پسندی اسلام کے بنیادی عناصر ہیں۔آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتا ہے یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔
دین اسلام میں پہلے سلام پھر کلام کی ترغیب آئی ہے۔ السلام علیکم کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، بلکہ یہ اس مفہوم پر بھی محیط ہے کہ تم میری طرف سے محفوظ و مامون ہو۔

یہی نہیں اسلام میں امن کا اتنا واضح تصور موجود ہے کہ دیگر ادیانِ عالم ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں، مثال کے طور پر قرآن مجید کی سورہ المائدہ کی نمبر 32 پیش کی جاسکتی ہے
“اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے (تورات میں) لکھ دیا تھا کہ جس شخص نے کسی دوسرے کو علاوہ جان کے بدلہ یا زمین میں فساد بپا کرنے کی غرض سے قتل کیا تو اس نے گویا سب لوگوں کو ہی مار ڈالا اور جس نے کسی کو (قتل ناحق سے) بچا لیا تو وہ گویا سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوا اور ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلائل لے کر آتے رہے پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں