252

کچھ دیر رکنے کے بعد

کچھ دیر رکنے کے بعد جب کاررواں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوا تو بہت سے وسوسے، ڈر، خوف اور تنہائی اس کے ساتھی تھے، مگر میر کاررواں اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں مگن ہوگیا کہاں کہاں سے اللہ تعالی نے اس کو امداد نہیں بھیجی اور کس کس جگہ مولا نے اسکا ہاتھ نہیں تھاما، ثابت یہی ہورہا تھا کہ اکیلے چلنے میں مشکلیں ضرور ہیں لیکن ناممکن نہیں، کامران خان، عائشہ ملک اعوان اور فیضان بخاری نے مل کر سفر طے کرنے کا فیصلہ کیا اور قدم بڑھا دیا، فیصلہ کیا کہ جانے والوں کو یاد نہیں کریں گے مشکل میں بھولنے والوں کو یاد نہیں کریں گے، آج چار ماہ بعد کالم لکھنے لگا ہوں سب پیارے دوست بہت یاد آرہے ہیں میرے یار میرے دوست عہد وفا تھا جن سے ،،،،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں