164

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

اسلام آباد (شعور نیوز) جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کی تھی وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے مگر وزیراعظم عمران خان ان کو مزید عہدے پر برقرار رکھنے پر مصر ہیں.ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی تجزیہ نگار امجد شعیب نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 مہیںوں کی مشروط “آرمی کمانڈ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرے گی تاہم دیگر ریٹائرڈ جنرنلز بشمول سابق ڈیفینس سیکریٹری ان کی بات سے متفق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس قانون سازی کے لیے مقرر اکثریت نہیں کہ وہ قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پاس کرا سکیں۔یہ بہت نقصان دہ صورتحال ہے کیونکہ آرمی کے نچلے افسران یہ صورتحال دیکھتے رہیں گے اور غیر یقینی قائم رہے گی۔
امجد شعیب نے مزیدکہا کہ صورتحال افراتفری کی سی ہے۔اب یہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر منحصر ہے کہ وہ پاک فوج کے وقار کا خیال رکھتے ہیں یا پھر سسٹم میں اصلاحات لا کر عہدہ چھوڑتے ہیں۔

جمعرات کے فیصلے میں اس بات کو دیکھا گیا ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں قانونی خلاء ہے کیونکہ نہ آئین میں اور نہ ہی آرمی ایکٹ میں تسعی کا ذکر ہے۔سپریم کورٹ نے اس کی تشریح کر کے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کر لے۔تاہم اس کا وقت ٹھیک نہیں ہے اگر یہ ایک ہفتے پہلے ہوجاتا تو بات کچھ اور ہوتی۔امجد شعیب نے مزید کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کی تھی وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے مگر وزیراعظم عمران خان ان کو مزید عہدے پر برقرار رکھنے پر مصر ہیں،انہوں نے کہا کہ سابق سیکرٹری ڈیفینس جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج منظم ادارہ ہے۔مشروط توسیع سے کوئی منفئ اثر نہیں ہو گا۔

نیوز ایڈیٹر
میاں مزمل منیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں