227

گردوارہ کرتار پور راہداری ایک تاریخی حقیقت

انتینیو گروتیس اقوام متحدہ میں سیکریٹری جنرل کے اسی منصب پر براجمان ہیں جس پر ہمارے بچپن کی ایک عظیم شخصیت کوفی عنان فائض تھے سکول لائف کا ہردن کوفی عنان کی کوئی نہ کوئی خبر پڑھتے ہی گزری، he was really a champ, پھر بانکی مون صاحب آئے اور اچھا وقت گزارا انھوں نے اور اب گروتیس صاحب اس اہم ترین سیٹ پر براجمان ہیں، پاکستانی سکیورٹی اسٹبلشمنٹ پر بہت تنقید کی جاتی ہے کہ معزرت کے ساتھ یہ ملک کھا گئے تعلیم کھاگئے پانی پی گئے گندم کھاگئے لیکن کبھی ان کی زندہ دلی، پلاننگ اور وطن سے محبت کوئی نہیں دیکھتا، kartarpur is not only corridor, یہ اس خطے کا مستقبل ہے، بی جے پی اور کتنا عرصہ رہ لے گی کبھی نہ کبھی عام آدمی پارٹی بھی میدان مارے گی اور انشاءاللہ وہ دن اس خطے کی کامیابی کا دن ہوگا اس بات کو باربار دہرانا کہ یہ خطہ کبھی یورپ نہیں بن سکتا بہت آسان ہے لیکن کس جگہ سے اس خواہش کا آغاز ہوگا وہ کرتارپور راہداری ہے اور یہ اعزاز تاریخ نے عمران خان اور جنرل باجوہ کو دیا کہ انھوں نے یہ تاریخ رقم کردی اور راستے کھول دئیے یہ راستہ مسلم سکھ اتحاد اور مسلم سکھ رواداری کا راستہ ہے اس منصوبے نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ ہماری انٹیلی جینشیا اور بھارت کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے ہمارے لوگ ایک دوسرے کی سنتے ہیں یہاں صرف جنگی جنون ہی نہیں بلکہ قومی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جاتا ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان انڈین پائیلٹ کو اتنی جلدی واپس بھیج دے گا اور پاکستان ایک سال میں کرتارپور راہداری مکمل کردے گا اور تاریخ کادھارا موڑ دیگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں