246

عورت کا حق عورت کی زندگی

از قلم کامران اکرم خان

زبردستی کے پردے اور انتہا پسندی کے ہم بھی خلاف ہیں، عورت مارچ کا نظریہ غلط نہیں لیکن اسکا مقصد ”میرا جسم میری مرضی“ کے موضوع کو آگے لے کرجانا ہم جنس پرستی، gayism اور lesbianism کو عام کرنا ہے، اس تباہی کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی مسلمان (لبرل سوچ والا) اپنی ماں بہن بیٹی کے لئیے ایسا مستقبل نہیں چاہتا جہاں گائنی کلینک اور DNC ان کا مقدر ہو، اسلامی معاشرے سے شاید کسی کے پر جلتے ہوں لیکن انسانی رویہ کبھی بھی یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کی بہن بیٹی بیوی میرا جسم میری مرضی کا واہیات نعرہ لگاتے مال روڈ پر ڈانس کررہی ہو محترمہ ماروی سرمد نے عورت مارچ کی بنیاد کو تباہ و برباد کردیا ہے یہ نعرہ ایسے بھی ہوسکتا تھا لیکن محض سیکس اور بولڈ نعرے لگا کر بائیولوجیکل عورتوں کے اندرونی اعضاء کی تصویریں بنا کر سرعام چخنا چلانا کونسے پڑھے لکھے معاشرے کا عکاس ہے میری تو سمجھ سے باہر ہے اور کیوں اس عجیب و غریب نعرے کو تحفظ دیا جارہا ہے ہم لبرل بھی ہیں سیکولر بھی ہیں شاید لیکن اسلام کی بنیاد ختم نہیں ہونے دیں گے یہ یاد رکھیں عورت کو حق بھی دیں گے معاشرے میں حدود میں رہتے ہوئے آزادی بھی دیں گے اور جب وہ کسی مشکل میں ہوگی اسکو امداد بھی دیں گے کیونکہ ہم مادر پدر آزاد نہیں مسلمان ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں