217

قدرتی ماحول تباہ ہوتا رہا تو کورونا جیسی مزید بیماریاں حملہ کرسکتی ہیں

لاہور (ریسرچ ڈیسک) قدرتی ماحول کی تباہی وباؤں کے پھلنے اور ان کے خطرناک ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے،فوٹو:فائل
عالمی ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی ماحول کو تباہ کیا جاتا رہا تو کورونا جیسی مزید وبائیں حملہ کریں گی۔ گذشتہ سال کے آخر سے چین سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی وبا سے اب تک دنیا کے 180 سے زائد ممالک متاثر ہوچکے ہیں اور دنیا بھر میں اس وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
اٹلی میں کورونا سے مزید 650 افراد ہلاک ، دنیا بھر میں اموات ساڑھے 14 ہزار تک پہنچ گئیں
‘کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کیلیے 12 سے 18 ماہ درکار ہیں‘
معروف امریکی ماہر ماحولیات اور مصنف ڈیوڈ کوائمن کا کہنا ہے کہ جب ہم جنگلات کو بے دریغ کاٹتے ہیں تو اس سے پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ ڈیوڈ کوائمن کے مطابق جنگل میں متعدد اقسام کے حشرات الارض ،جانور اور پودے ہوتے ہیں جو کہ مختلف اقسام کے وائرس کی آماجگاہ بھی ہوتے ہیں۔ جب ہم جانوروں اور حشرات سے ان کا مسکن چھین لیتے ہیں تو وہ نئی جگہ کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اپنی بقا کی کوشش کرتے ہیں اس دوران ان میں موجود وائرس ہمارے جسم میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح جب جنگلات سے لکڑی کاٹ کر شہر میں فروخت ہوتی ہے تو اس دوران متعدد کیڑے مکوڑوں کے ساتھ وائرس بھی انسانی آبادی میں منتقل ہوجاتے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کے مرنے کے بعد انہیں نئی جگہ کی تلاش ہوتی ہے اور ایسے میں انسانی جسم ہی ان کی آماجگاہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ماہرین ماحولیات کا بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور قدرتی ماحول کی تباہی وباؤں کے پھلنے اور ان کے خطرناک ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وباؤں سے مقابلہ کرنا ہے تو آب وہوا کو صاف ستھرا رکھنا نہایت ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل کورونا وائرس کی ہی ایک قسم سارس ‘جس نے 2003 میں چین میں ہی تباہی پھیلائی تھی’ سے ان علاقوں میں شرح اموات زیادہ تھیں جہاں آلودگی زیادہ تھی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔
یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں