129

(خاکہ (زید ملک

تحریر ۔ داؤد شاھد

شانوں تک جاتے ہوئے الجھے سلجھے پٹوں والا یہ دیسی

بوائے براڈ پٹ نہیں۔ اپنا زید ملک ہے۔

بھاری چہرہ، چوڑی پیشانی، روشن آنکھیں، دائیں ابرو بنارسی ٹھگوں کی طرح مستقل اوپر کو چڑھی ہوئی، کترواں ناک، میانہ قامت، کلائی میں بریسلٹ، ہاتھ میں نگ جڑی انگوٹھیاں، چال ایسی جیسے پانی میں ناگن لہرا رہی ہو۔ اکثر ایسے لوگوں کے گال پہ ایک بڑا سا “موہقہ” بھی ہوتا ہے۔ زید جیسے نوجوان عین جوانی میں سائیں بن کر کسی دربار پر بیٹھے گیان دھیان کرتے نظر آتے ہیں۔

اس شخص میں مردانہ وجاہت کے وہ تمام اوصاف موجود ہیں جو 1970 کی دہائی میں پاک دامن بیبیاں اپنے محبوب میں ڈھونڈھا کرتی تھیں۔

زید کی فطرت میں قدرت نے اپنے سینکڑوں رنگ بھر رکھے ہیں۔ کلین شیو ہے تو آپ کو چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی یاد دلائے گا۔ داڑھی مونچھ بڑھا لی تو انڈیا کا موسٹ وانٹڈ گینگسٹر سلطانہ ڈاکو بن جائے گا۔ (پہلا کمنٹ ملاحظہ ہو)

قیام پاکستان کے بعد ایسے حلیے کے نوجوان سر پہ پھندنے والی سرخ ٹوپی پہن کر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جلسوں میں فیض کی ولولہ انگیز نظمیں پڑھا کرتے تھے۔

ایک دفعہ پولیس نہ صرف جلسہ گاہ سے پارٹی کے ٹینٹ اکھاڑ کر لے گئی۔ بلکہ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نام نہاد سرخے بھی ڈالے میں ٹھونس لئے۔ اس دن کے بعد نہ تو پارٹی کا کوئی جلسہ ہی منعقد ہوا۔ نہ ہی ایسے حلیے کا کوئی نوجوان سڑکوں پر دکھائی دیا۔

کچھ عرصہ پہلے ملک صاحب کو فلموں میں ایکٹنگ کرنے کا شوق چرایا۔ آڈیشن کے بعد انہیں فلم “منڈیا ڈوپٹہ چھڈ میرا” کی کاسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ اسکرپٹ کے مطابق زید کو فملسٹار صائمہ کے مقابل ہیرو کا رول ادا کرنا تھا۔

فلم کا ابتدائی منظر ہی کچھ ایسا تھا کہ صائمہ کے ساتھ بازار سے واپس گھر جاتے ہوئے غنڈوں نے چھیڑ خانی کرنی تھی۔ ہیرو زید ملک جو شہر سے پڑھ کر آیا ہوتا ہے۔ اسے چند جذباتی سے ڈائیلاگ بول کر غنڈوں کی ٹھکائی کرنی تھی اور صائمہ کے دل میں اپنی جگہ بھی بنانی تھی۔

اب پتہ نہیں دیہاڑی دار غنڈوں کو شوٹنگ کے پیسے کم ملے تھے یا ملک صاحب کی ڈائیلاگ ڈیلیوری میں کچھ اونچ نیچ ہوگئی۔ غنڈوں نے بجائے مار کھانے کے زید کو ہی پکڑ کر لتر پولا شروع کردیا۔ جب تک ڈائریکٹر “کٹ” بولتا۔ تب تک کٹ کھا کھا کر زید کا تھوبڑا سوجے ہوئے انناس جیسے ہوچکا تھا۔

ملک صاحب کو جیسے تیسے اٹھا کر گھر لایا گیا اور انہوں نے آئندہ سے ہیرو پنتی سے توبہ کر لی۔

زید فلموں میں ہیرو تو نہ بن سکا۔ لیکن آج بھی اپنے بیڈروم کی دیوار پہ ٹنگی کترینہ کیف کی تصویر دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھر کر کہتا ہے:

“جانو! اگر وہ بدبخت غنڈے لتریشن کر کے میرا فلمی کرئیر تباہ نہ کرتے۔ تو ‘ایک تھا ٹائیگر’ میں تمہارا ہیرو سلمان خان کی بجائے میں ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں