89

ماں


تحریر۔ داؤد شاھد
ماں چلی گئیں

اماں کے دنیا سے کوچ کر جانے سے مجھے یوں لگا جیسے آسمان میرے سر پہ ٹوٹ پڑا ہو۔ یا زمین میرے پیروں میں سے کھینچ لی گئی ہو۔۔

والدین کی جڑیں اولاد میں بہت اندر تک پیوست ہوتے ہیں۔ جیسے تن آور درخت نے زمین کو جکڑ رکھا ہو۔ ماں کے جانے کے بعد میرے ذہن میں زندگی فلم کی طرح گردش کرنے لگی ہے۔

میرا بچپن! جس کو ماں نے اپنی تربیت اور مامتا کی حدت سے ایک لازوال دور میں بدل دیا تھا۔ میرا لڑکپن، میری جوانی! سب کچھ اماں کے سائے میں ہی تو پروان چڑھا تھا۔۔۔

پھر ایک دن میری چھت مجھ سے چھن گئی۔ جیسے کسی شخص کو چھاؤں سے اٹھا کر اچانک ہی کڑی دھوپ میں کھڑا کردیا جائے۔

ماں جب بیمار ہوئی تو ہلکا سا شائبہ تھا کہ وہ اب زیادہ عرصہ جی نہیں سکیں گی۔ لیکن دل اس چیز پر ایمان لانے کو راضی نہ تھا۔
دنیا کی بنیاد فنا پر ہے۔ لیکن ہم اپنے پیاروں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے، اپنے ہاتھوں سے لحد میں اترتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

خدا کی قسم روح زخمی ہو جاتی ہے۔ انسان کا پور پور ناسور کی طرح رسنے لگتا ہے۔

امی! آپ چلی گئیں۔ لیکن اس دل کو ایک لمحہ قرار نہیں۔ دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ آپ اب کبھی واپس نہیں آئیں گی۔
یہ دل ہر آہٹ پر، ہر چاپ پر چونک اٹھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ آپ کہیں سے واپس آجائیں گی۔۔۔ کتنا بیوقوف ہے یہ۔ بھلا جانے والے بھی کبھی واپس آتے ہیں۔

میاں محمد بخش نے کیا ہی خوبصورت بات کی تھی:

“باپ سراں دے تاج محمد
تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں