71

My Home ISLAMABAD

میرا گھر اسلام آباد (تحریر داؤد شاہد)
السلام علیکم!

میں چند دنوں سے اسلام آباد میں بڑھتے جرائم اور لاقانونیت پر لکھ رہا ہوں- دارالحکومت کو محفوظ ترین شہر سمجھنے کا میرا فخر ٹوٹ گیا ہے جس سے میں شدید بددلی اور مایوسی کا شکار ہوں- بہت سارے واقعات سننے، پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بیشتر وارداتوں میں جرائم پیشہ افراد کو پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے- میری تحریریں پڑھ کر سیکٹر G-11/1 اسلام آباد کے ایک بزرگ شہری نے انکے ساتھ پیش آئی جرم کی ایک کہانی بمعہ ثبوت مجھے بھجوائی- یہ پڑھ کر مجرموں کو حاصل پولیس کی مکمل سپورٹ کا یقین پختہ ہو گیا- آپ بھی پڑھیے-

بحوالہ ایف آئی آر نمبر 351/20 مورخہ 26 اگست 2020 تھانہ رمنا – اسلام آباد (وقوعہ 24 اگست 2020)

مذکورہ بزرگوار کی شادی شدہ بیٹی ہمراہ شوہر اور ایک سالہ نواسی انہیں ملنے وقوعہ کے روز اپنی کار پر اسلام آباد کے سیکٹر F-6 /1 سے انکے گھر سیکٹر G-11/1 پہنچے- بزرگوار بمعہ اہلیہ اپنے گھر سے باہر تشریف لاے اپنی بیٹی، داماد اور نواسی کا استقبال کرنے- بیٹی اور داماد جونہی گاڑی سے اترے، پیچھے سے ایک موٹر سائیکل سوار اپنی ہنڈا 125 موٹر سائیکل پر آیا اور بیٹی سے اسکا بیگ چھین کر بھاگ کھڑا ہوا- بزرگوار کی بیٹی نے انکی نواسی کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جبکہ بیگ اسکے بائیں ہاتھ میں لٹکا ہوا تھا- چھیننے کے عمل میں بیگ کے ہینڈل کاٹنے کیلئے باقاعدہ تیز دھار آلہ استمعال کیا گیا جس سے خاتون کے دوپٹے میں بھی سوراخ ہوا- بیگ میں نقدی، موبائل فون، شناختی کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈز وغیرہ تھے- بیگ میں موجود موبائل iphone-6 تھا جس میں icloud اکاؤنٹ ایکٹو تھا- بزرگوار کے داماد چونکہ ایک موبائل فون کمپنی کے انجنیئر ہیں، انہوں نے فوراً اپنی لیپ ٹاپ میں login اور پاس ورڈ ڈال کر icloud اکاؤنٹ کھول لیا اور find my mobile کے ذریعے لوکیشن معلوم کی جو کہ بیگ میں موجود موبائل فون کے بدستور کھلے رہنے کی وجہ سے مسلسل پتہ چلتی رہی- بالاآخر رات 12.20 بجے یہ موبائل ضلع ہری پور کے گاؤں سراے صالح کے ایک گھر کی لوکیشن پر بند ہو گیا- انکے داماد مذکورہ لوکیشن پر پہنچ گئے اور مکان کے سامنے وہ موٹر سائیکل بھی پہچان لیا جو واردات میں استمعال ہوا تھا- اہل محلہ کی مدد سے ملزم کا نام، ولدیت و فون نمبر وغیرہ معلوم ہو گیا- واپس اسلام آباد آ کر مذکورہ بالا ایف آئی آر درج کروائی گئی جو باقائدہ طور پر ملزم کے نام سے دی گئی-

ٹیکنالوجی اور سمجھ بوجھ سے کتنا بروقت اور سمارٹ کام کیا گیا- پولیس کو حلوہ پکا کر دے دیا گیا لیکن وہ چمچہ اپنے منہ تک نہیں لیجا سکی اور ملزم نے اسلام آباد کی متعلقہ عدالت میں پیش ہو کر اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی- تمام شواہد اور ثبوت موجود تھے پھر پولیس عدالت میں اپنا موقف کیوں نہیں منوا سکی؟ یہاں تک کہ واردات میں استمعال ہونے والا موٹر سائیکل بھی ہری پور کی عدالت سے سپر داری پر چھڑوا لیا گیا اور موقف یہ کہ وہ واردات کرنے والے کے نام پر رجسٹرڈ نہیں تھا- یہ نالائقی نہیں بلکہ پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی ہے- مذکورہ کیس میں ابتک زیرو پراگریس ہے جبکہ کیس کا ملزم ہسٹری شیٹر ہے، ایک واردات کے دوران ٹانگ میں گولی کھا چکا ہے اور اسکے خلاف پہلے بھی متعدد کیسز ہیں-

لیکن کیا کیجئیے اس نظام کا…..!!!! یہ واردتیہ پولیس والوں کیلئے ایک شریف، پڑھے لکھے، پروفیشنل انجنیئر سے زیادہ قیمتی ہے- تو بھائیو، بہنو اور دوستو، اپنی حفاظت کا انتظام خود کیجیئے کیونکہ پولیس کیساتھ لگے ہوۓ پیٹ بہت بڑے ہیں جو جرائم پیشہ افراد کیساتھ ساجھے داری کے بغیر بھر نہیں سکتے- جبکہ انہیں بھرنا میرے اور آپکے بس کی بات نہیں ہے- یہ سیف سٹی پروجیکٹ اور جگہ جگہ لگے کیمرے اسوقت تک کسی کام کے نہیں جب تک پولیس اور جرائم پیشہ افراد کی ساجھے داری چل رہی ہے-

(دو دن قبل میرے دوست کی نظروں کے سامنے سیکٹر G-11 مرکز میں D-Watson کے سامنے پارکنگ میں ایک خاتون کا پرس چھینا گیا- علاوہ ازیں ایک ہفتہ قبل سیکٹر G-13/1 میں ایک مارکیٹ کے عقب میں بنے پبلک پارک میں واک کرتی دو لڑکیوں سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی اور مزاحمت پر ایک لڑکی کو گولی مار دی گئی- گولی لڑکی کے پیٹ کے سائیڈ میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوئی اور اسوقت ایک ہسپتال میں زیر علاج – میرا گھر اسلام آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں