34

کسان پٹواری اور بٹیرے

نوکری کے دوران بننے والے تعلقات کی حقیقت

غلام مصطفی کھر کی گورنری کے زمانے کا واقعہ ہے کہ ملکوال کے ایک کسان نے کھیتوں میں کام کرتے بٹیرے پکڑ لیے، اس نے سوچا خود ان بٹیروں کا کیا کرنا ہے کیوں نہ یہ سب سے بڑے اور با اثر افسر کو تحفے میں دیے جائیں . اب بھلا پٹواری سے بڑا افسر کون ہو سکتا تھا اور پھر کسان کو پٹواری سے کام بھی تھا تو وہ چل پڑا کہ چل کے پٹواری صاحب کو خوش کرتے ہیں…
پٹواری کے گھر کے باہر پہنچ کر سادہ لوح دیہاتی کسان نے باہر سے ہی آواز دی

کسان: پٹواری صاحب جی!
پٹواری: ہاں اوئے رحمیاں! کی آ
کسان: جی چودھری جی بٹیرے کھا لیندے او ؟

( اسی دوران ایک ستم ظریف جو پاس سے گزر رہا تھا، اس نے آہستہ سے بتا دیا کہ پٹواری کا تبادلہ ہو گیا ہے)

پٹواری: آہو کھا لینے آں!

کسان: “چنگا فیر پھڑیا کرو تے کھایا کرو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں